لاہور ہائیکورٹ نے 40سال پہلے جھوٹے گواہوں کو کھلی چھٹی دی: چیف جسٹس

    0
    152
    لاہور ہائیکورٹ نے 40سال پہلے جھوٹے گواہوں کو کھلی چھٹی دی چیف جسٹس
    لاہور ہائیکورٹ نے 40سال پہلے جھوٹے گواہوں کو کھلی چھٹی دی چیف جسٹس

    اسلام آباد(بول نیوز) سپریم کورٹ نے رشتہ کے تنازعہ پر دو افراد کے قتل کے ملزم کی بریت کیخلاف اپیل خارج کر دی، چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اکیس میں بھی گواہان نے سچ نہیں بولا۔

    عدالت عظمی نے 2004ء میں رشتہ کے تنازعہ پر دو افراد کے قتل کے ملزم کی بریت کیخلاف اپیل خارج کر دی ہے۔

    سپریم کورٹ نے بریت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملزمان تو کسی پر حملہ کرنے نہیں گئے تھے، رشتہ مانگنے والوں کو تو کوئی جان سے نہیں مارتا۔

    چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلہ سناتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس کیس میں بھی گواہان نے سچ نہیں بولا، ملزم حنیف اور شریف پر دو افراد کے قتل کا الزام تھا، رشتہ لینے گئے اور دو افراد قتل چار زخمی کروا آئے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ قرآن کہتا ہے جس کی ایک شہادت جھوٹی ہو اسکی کوئی گواہی نہ مانو، قانون کہتا ہے جھوٹے گواہ کی شہادت خارج کر دی جائے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لاہور ہائیکورٹ نے چالیس سال پہلے جھوٹے گواہان کو کھلی چھٹی دی، ہائیکورٹ نے چالیس سال پہلے کہا اس خطے میں لوگ جھوٹ بولتے رہتے ہیں، عدالتی فیصلے کے ذریعے جھوٹ بولنے کا لائسنس دیا گیا۔

    کیس میں ٹرائل کورٹ نے ایک ملزم کو بری اور دوسرے کو سزائے موت دی تھی، اپیل میں ہائیکورٹ نے دوسرے ملزم کو بھی بری کیا تھا، جس کو آج سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here