پلوامہ حملے میں پاکستان کا تعلق ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا: ترجمان دفتر خارجہ

    0
    179

    اسلام آباد (بول نیوز) دنیا کے سامنے بھارت کے الزامات کا پردہ چاک، دفتر خارجہ نے غیرملکی سفارتکاروں کو ابتدائی تحقیقات سے متعلق بریفنگ میں بتایا ہے کہ بھارتی الزامات کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

    بھارتی ڈوزیئرمیں صرف الزامات، پاکستان نے غیرملکی سفارتکاروں کو بریفنگ میں سب بتا دیا۔ بریفنگ کے دوران سیکریٹری خارجہ، سیکریٹری داخلہ، اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے بھی موجود تھے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بریفنگ میں بتایا کہ بھارت نے 27 فروری کو شواہد دیئے۔ دستاویزات ملنے کے فوری بعد تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔91 صفحات پر مشتمل بھارتی دستاویز کے 6 حصے تھے۔ پارٹ 2 اور 3 پلوامہ حملے سے متعلق تھے۔ باقی حصے میں عام الزامات لگائے گئے۔

    پاکستان نے پلوامہ حملے سے متعلق معلومات کو فوکس کیا۔ تحقیقات کے دوران تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا۔ عادل ڈار کے اعترافی ویڈیو بیان کا بھی جائزہ لیا۔ وٹس ایپ نمبر، ٹیلیگرام نمبر، ویڈیو میسیجز، فن لوکیشن اور کالعدم تنظیموں کے کیمپس سے متعلق بھی تحقیقات کیں۔ فراہم کئے گئے تمام متعلقہ نمبر پرسروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے تفصیلات طلب کی ہیں۔

    وٹس ایپ میسج کے حوالے سے امریکی حکومت سے رابطہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 54 افراد کو حراست میں لے کر تحقیقات کی گئیں۔ ابھی تک ان کا پلوامہ حملے سے تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔ بھارت نے جن 22 مقامات کی نشاندہی کی تھی ان کا بھی معائنہ کیا گیا ہے، ان 22 مقامات پر کسی کیمپ کا کوئی وجود نہیں۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here