وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مزہبی علما و مشائخ کا اعلیٰ سطح کا اجلاس

0
50
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مزہبی علما و مشائخ کا اعلیٰ سطح کا اجلاس
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مزہبی علما و مشائخ کا اعلیٰ سطح کا اجلاس

اسلام آباد (بول نیوز) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تصوف اور اسلام کی ترویج کے سلسلے میں صوفیاء کرام کی خدمات کو اجاگر کرنے اور ان کی شخصیات پر تحقیق کے فروغ کے سلسلے میں تعلیمی و تحقیقی ادارے کے قیام کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی اجلاس  ہوا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت علما ومشائخ کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔

اجلاس میں وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری، وزیر برائے نیشنل فوڈ اینڈ سیکیورٹی صاحبزادہ محبوب سلطان، وزیر اوقاف پنجاب پیر سید سعید الحسن، وزیر برائے ہائر ایجوکیشن پنجاب یاسر ہمایوں سرفراز، ایم این اے خواجہ شیراز محمود، چئیرمین ہائر ایجوکیشن طارق بنوری، چئیرمین مدینہ فاؤنڈیشن میاں محمد حنیف، پروفیسر ڈاکٹر نور احمد شاہ تاج، خواجہ قاسم سیالوی و متعلقہ محکموں کے سینئر افسران شریک ہوئے۔

اجلاس میں شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اسلام کی ترویج میں صوفیا کرام کے کردار اور تصوف کے بارے میں نوجوان نسل کو روشناس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس مقصد کے لیے ایسے ادارے کا قیام کہ جہاں خاص طور پر تصوف اور صوفیا کرام کی شخصیات اور ان کی خدمات کے بارے میں سیر حاصل اور جینوئن تحقیق ہو بہت اہمیت کی حامل ہے۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ایسے ادارے کے قیام اور اس میں ہونے والی تحقیق سے نہ صرف نئی نسل اسلام کی اصل تعلیمات سے آگاہ ہوں گی بلکہ مذہب کے نام پر کیے جانے والے استحصال سے بھی معاشرے کو بچایا جا سکتا ہے۔

اس ضمن میں وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری، چئیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، خواجہ شیراز محمود اور میاں محمد حنیف پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو تصوف اور سیرت سٹڈیز کے قیام کے حوالے سے عملی خاکہ (کانسیپٹ پیپر) مرتب کر کے وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی۔

اجلاس میں درگاہوں اور مزارات پر زائرین کو مناسب سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی اوقاف کی غیر استعمال شدہ زمینوں کو برؤئے کار لانے اور ان کے مصرف کے لیے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے تاکہ نہ صرف ان اراضیوں پر بعض مقامات پر ہونے والے ناجائز قبضوں کو واگزار کرایا جا سکے بلکہ ان کا مناسب استعمال بھی یقینی بنایا جاسکے تاکہ ان سے ہونے والی آمدنی کو درگاہوں اور زائرین کو سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جا سکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here