حکومت کے پہلے 6ماہ کی کارکردگی عمران خان کی طرح ہینڈسم نہیں: مفتاح اسماعیل

0
140
Miftah Ismail

لاہور(بول نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے پہلے چھ ماہ کے معاشی اعداد و شمار اور کارکردگی عمران خان کی طرح ہینڈسم نہیں ہے۔ حکومت کے چھ ماہ کی معاشی کارکردگی اس دعوے کے برعکس ہے

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا ملکی معشیت کے بارے میں بیان، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے پہلے چھ ماہ کے معاشی اعداد و شمار اور کارکردگی عمران خان کی طرح ہینڈسم نہیں ہے۔ چھ ماہ میں بجٹ خسارہ 796 ارب سے بڑھ کر 1030 ارب ہو گیا ہے۔71سال کی ملکی تاریخ میں پی ٹی آئی نے پہلے چھ ماہ میں سب سے زیادہ بجٹ خسارے کا ریکارڈ قائم کر دیا۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومتی کارکردگی کو دیکھ کر پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا بجٹ خسارہ دے گی۔ عمران خان نے کہا تھا کہ لوگ اُن پر اعتبار کرتے ہیں، وہ پاکستان کا ریونیو دو گناہ کر دیں گے۔ حکومت کے چھ ماہ کی معاشی کارکردگی اس دعوے کے برعکس ہے۔ ٹیکس ریونیو میں صرف 2.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ افراط زر بڑھ کر 7 فیصد ہو گیا ہے۔

ریونیو کو حقیقی سطح پر دکھانے کے لئے ان میں 10فیصد اضافہ کی ضرورت ہو گی، مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) تین فیصد پر ہے۔ ملک کی ریونیو کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان پر اعتماد کہاں گیا؟ اگر ریوینیو میں اضافہ نہیں ہوا اور خسارہ 30 فیصد پر پہنچ گیا ہے تو پھر پیسہ کہاں جا رہا ہے، یہ سرمایہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں تو نہیں جا رہا تو پھر یہ پیسہ کہاں گیا؟

سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ڈیم، یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں کی تعمیر جیسے ترقیاتی اخراجات پر بھی یہ سرمایہ خرچ نہیں ہو رہا۔ ترقیاتی بجٹ 36فیصد نیچے آ چکا ہے پھر بجٹ خسارہ اتنا زیادہ کیوں ہے؟ بجٹ خسارے میں اس قدر اضافہ دیکھتے ہوئے پوچھا جانا چاہیے کہ پی ٹی آئی کی کفایت شعاری کا کیا ہوا؟ کفایت شعاری کا ڈرامہ بھی بے نقاب ہو چکا ہے، اخراجات جاریہ میں 17 فیصد اضافہ ہوا جو 439 ارب روپے بنتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ سود کی ادائیگی اور دفاع میں پیسہ جا رہا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ نہ دفاع اور نہ ہی سود میں یہ پیسہ جا رہا ہے۔ وزراء کے اخراجات میں 16فیصد اضافہ ہوا جو 226 ارب بنتے ہیں۔ افراط زر میں ہر ماہ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، گیس بجلی کی قیمتیں اور سود کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپوزیشن کے بجائے غریب آدمی کے مسائل سے لڑیں اور اس کے حل کے لیے اقدامات کریں۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ افراط زر اور بےروزگاری میں کمی لانے کے لئے کام کرنا ہو گا۔ قوم ہمیں اقتدار کے ایوانوں میں کام کرنے اور قومی مسائل کا حل نکالنے کے لیے بھیجتی ہے۔ سیلفیاں اور عینک پہن کر تصویریں کھینچوانے کے لئے نہیں۔ آپ ہینڈسم ضرور ہیں لیکن آپ کی اصل ذمہ داری قوم اور ملک کو درپیش مسائل کا حل کرنا ہے، اس پر توجہ دیں، اپنا کام کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here