منی بجٹ: بینکنگ ٹرانزیکشنز پر ٹیکس ختم، سستے گھروں کیلئے قرض حسنہ اسکیم کا اعلان

0
276
pakistan-wazir-khazana-asad-umer
pakistan-wazir-khazana-asad-umer

اسلام آباد (بول نیوز) حکومت نے منی بجٹ میں بینکنگ ٹرانزیکشنز پر فائلرز کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے اور گھر بنانے کے لیے عوام کو قرض حسنہ فراہم کرنے کے لیے پانچ ارب روپے مختص کرنے کی تجاویز دی ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں بجٹ تجاوز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ریٹرنز فائل نہ کرنے والے افراد زیادہ ٹیکس دے کر 1300 سی سی تک گاڑی خرید سکیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی بجٹ تجاویز کے اہم نکات درج زیل ہیں:

  • بینک چھوٹی کمپنی کو قرضہ دے گا تو  20فیصد ٹیکس ہو گا

  • زرعی قرضوں پر بھی ٹیکس  39فیصد سےکم کر کے 20فیصد پر لے کر آرہے ہیں

  • ایس ایم ای سیکٹر پر آمدن پر عائد ٹیکس 39 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر رہے ہیں

  • بینکنگ ٹرازنکشنز پر فائلرز کے لیے 0.3 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے

  • چھ ماہ میں زرعی قرضوں میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے

  • نان فائلر زیادہ ٹیکس دے کر 1300 سی سی تک گاڑی لے سکے گا

  • چھوٹے شادی ہالوں پر عائد ٹیکس 20 ہزار سے کم کرکے 5 ہزار کرنے کا اعلان

  • نیوز پرنٹ پر امپورٹ ڈیوٹی پر مکمل استثنی کا اعلان کررہے ہیں

  • تمام نان بینکنگ کمپنیز کا سپر ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے

  • ایک فیصد سالانہ کارپوریٹ انکم ٹیکس میں کمی ہوتی رہے گی

  • 1800 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کا اعلان

موبائل فون کتنے مہنگے ہوئے؟

  • سستے موبائل فونز پر ٹیکس کم کیا جا رہا ہے، مہنگے پر نہیں

  • درآمدی موبائل اور سیٹلائٹ فون پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ

  • 30 ڈالر سے کم قیمت کے موبائل پر سیلز ٹیکس 150 روپے ہو گا

  • اور 100 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر 1470 روپے سیلز ٹیکس عائد

  • اور200 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر 1870 روپے سیلز ٹیکس عائد

  • اور350 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر 1930 روپے سیلز ٹیکس عائد

  • اور500 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر سیلز ٹیکس 6000 روپے سیلز ٹیکس عائد

  • ڈالر سے زائد قیمت کے درآمدی موبائل پر 10300 روپے سیلز ٹیکس           عائد

وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ میرے دائیں جانب والوں کے پاس پچھلے دس اور پانچ سال حکومت تھی، یہ عوام کے لیے کیا چھوڑ کر گئے؟ آج سے دو سال پہلے معاشی ماہرین نے خطرے کی نشاندہی کی، حکومت کو آگے الیکشن نظر آرہا تھا اس لیے انہوں نے بجائے اصلاح کے الیکشن خریدنے کی کوشش کی، انہوں نے اپنا بنایا بجٹ خسارہ ہی 900 ارب سے زیادہ بڑھادیا، اب وہ پیسہ کہاں سے آئے گا؟ کیا سوئس بینک سے آئے گا؟ اب وہ قرضہ عوام نے ادا کرنا ہے۔

اسد عمر نے (ن) لیگ کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے نظام میں ایسی تباہی لائے کہ ملکی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوئی، ایک سال میں ساڑھے 400 ارب کا خسارہ ہوا، گیس کے نظام میں کبھی خسارہ نہیں ہوا انہوں نے وہ بڑھا کر ڈیڑھ سو ارب تک پہنچا دیا، اسٹیل مل، پی آئی اے، ریلوے سب کا خسارہ اپنی جگہ ہے، یہ قوم کو ڈھائی سے تین ہزار ارب کا مقروض کرگئے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ آج اہم کام کے لیے جمع ہوئے، عوام نے ووٹ دے کر اس اہم کام کے لیے بھیجا، ملک کے معاشی اور عوام مسائل دیکھیں، عوام مسائل کا ادراک رکھتی ہے، یہ بجٹ نہیں معیشت کی اصلاحات کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے، صنعتی پیداوار بڑھانے کے لیے زراعت کو ترقی دینے کے لیے اصلاحات کا پیکج ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک ایسی معیشت بنانی ہے جہاں آئی ایم ایف کا پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری پروگرام ہو تاکہ عوام کو یہ نہ سننا پڑے کہ پچھلی حکومت کی وجہ سے آئی ایم ایف گئے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ ہمیں زراعت اور انڈسٹری کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے، جب تک سرماریہ کاری نہیں ہوگی معیشت آگے نہیں بڑھ سکتی، کب تک بجٹ میں جعلی اعدادو شمار سے جعلی ترقی دکھانے کی کوشش کرتے رہیں گے، ہمیں حقیقی ترقی کے لیے سرمای کاری بڑھانی ہوگی۔

اسد عمر نے دعویٰ کیا کہ جب اگلا الیکشن آئے گا تو تحریک انصاف کی حکومت کو الیکشن خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، پانچ سال کی محنت کا رنگ نظر آرہا ہوگا، 2008 سے 2023 تک جو سب سے زیادہ تیز ترقی کی نمو ہوگی وہ 2022 اور 23 میں ہوگی، کرنٹ اکاؤنٹ اور مالی خسارہ کم ہوگا۔

انہوں نے شہبازشریف کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ہم خود کو زبان سے خادم اعلیٰ نہیں بولتے، خادم سمجھتے ہیں، ہمیں یقین ہے عوام حقیقت دیکھ اور سمجھ رہی ہے، عوام نتائج پر ووٹ ڈالے گی، جنہوں نے الیکشن خریدنے کی کوشش کی عوام نے انہیں گھر بھیج دیا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ امید ہے ہم جس طرح سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور زراعات کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں، امید ہے اس پر اپوزیشن ہماری رہنمائی کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بینک درمیانی سطح کے لوگوں کو قرض دے گا، اس ٹیکس کو 39 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کررہے ہیں۔

سستے گھروں کیلئے قرض حسنہ اسکیم کا اعلان

وزیر خزانہ نے قرضہ حسنہ اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں غریبوں کے لیے گھر بنانے ہیں، وزیراعظم کا وعدہ ہے پچاس لاکھ گھر بنانے کی کوشش کریں گے، اس کے لیے دو کام کیے جارہے ہیں، بینک چھوٹے گھروں کے لیے جو قرض دیں گے اس پر ٹیکس 39 سے کم کرکے 20 فیصد کررہے ہیں، 5 ارب روپے کی قرضِ حسنہ کی اسکیم لارہے ہیں، ریوالونگ فنڈ پیدا کررہے ہیں، جو لوگ کم آمدنی کے لوگوں کے گھر بنانے پر کام کرتے ہیں انہیں قرض دیں گے تاکہ وہ غریبوں کے لیے گھر بناسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے ریونیو میں فوری طور پر کمی کے لیے تیار ہیں، ہم چاہتے ہیں معیشت آگے چلے، چاہتے ہیں لوگوں کو فائلر بننے کی ترغیب دی جائے، فائلر کی ٹرانزکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کررہے ہیں، ہم تاجروں پر ود ہولڈنگ کے 6 فیصد کو ایف بی آر میں لے جارہے ہیں اس کے بعد یہ کم سے کم ٹیکس نہیں رہےگا۔

وزیر خزانہ نے کہاکہ تاجر ہم سے مطالبہ کرتے رہے ہیں ہم ٹیکس دینے کو تیار ہیں لیکن ہمارے لیے آسان پیدا کریں، ہم ان کے لیے آسان اسکیم لا رہے ہیں جسے اسلام آباد سے شروع کر رہے ہیں، اس کی کامیابی کے بعد اسے پورے ملک میں لائیں گے، تاجروں کی یہ خواہش پوری کریں گے اس کے نتیجے میں پہلے کی نسبت زیادہ ٹیکس ملےگا۔

نان فائلر پر 1300 سی سی تک گاڑیاں خرید سکیں گے

اسد عمر نے اعلان کیا کہ نان فائلر پر 1300 سی سی تک گاڑیاں خریدنے کی بندش ختم کررہے ہیں، نان فائلر چھوٹی اور درمیانے سائز کی گاڑی لے سکتا ہے، ہم انہیں فائلر بنانا چاہتے ہیں، اس پر ٹیکس بڑھا رہے ہیں۔

چھوٹے شادی ہالوں پر ٹیکس 5 ہزار کرنے کا اعلان

انہوں نے شادی ہالوں پر بھی ٹیکس میں کمی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا چھوٹے شادی ہالوں پر ٹیکس 20 ہزار سے کم کرکے ایک چوتھائی یعنی 5 ہزار کررہے ہیں۔

نیوز پرنٹ کی امپورٹ کو ڈیوٹی فری کرنے کا اعلان

اسد عمر نے نیوز پرنٹ کی امپورٹ کو ڈیوٹی فری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نیوز پرنٹ انڈسٹری میں زیادہ تر خبریں تحریک انصاف کی حکومت کے حق میں نہیں ہوتی لیکن یہ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اگر حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں تو آپ کو ایک آزاد صحافت چاہیے اور ایسی انڈسٹری چاہیے جو منافع بخش ہو اور سب کا کاروبار بڑھائے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے، حکومت کا کام ہے اپنے کسان اور تاجر کے پیچھے کھڑی ہو، اسےمضبوط کرے کیونکہ دنیا سے تاجر، صنعت کار اور مزدور نے مقابلہ کرناہے، ہمارا کام ان کو برابری کا میدان دینا ہے، اس بجٹ میں تمام تر مشکلات کے باوجود خام مال پر کچھ میں مکمل ختم اور کچھ میں ڈیوٹی پر کمی کررہے ہیں، چھوٹی اور درمیانی سطح کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے، آٹو کی وینڈر انڈسٹری کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے۔

بجٹ کے بعد کاسمیٹکس، پرفیومز، گھڑیوں، موبائل فون، ڈبہ پیک دودھ، شیمپو، کریم اور پنیر جیسی اشیاء کے مہنگے ہونے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 21 جنوری کو منی بجٹ پیش کرنے کا پلان تھا، تاہم وزیراعظم عمران خان کے دورہ قطر کے سبب اس کی تاریخ آگے بڑھا دی گئی۔

رواں ماہ 12 جنوری کو کراچی میں صنعتکاروں سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا تھا کہ منی بجٹ میں ٹیکس بے ضابطگیوں کو دور کیا جائے گا جبکہ ٹیکسوں کے حوالے سے ہر قسم کی تبدیلی پارلیمنٹ کی منظوری سے ہوگی۔


LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here