نواز شریف کی طبی بنیاد پر 6 ہفتوں کے لیے ضمانت منظور

0
283

اسلام آباد (بول نیوز) نوازشریف کو سپریم کورٹ سے عارضی ریلیف مل گیا۔ عدالت عظمیٰ نے طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کرلی۔ سابق وزیراعظم کو 6 ہفتے کے لیے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کهوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نواز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے 8 ہفتوں کے لیے ضمانت کی استدعا کی تاہم عدالت نے 6 ہفتوں کے لیے ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 50 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی اور اعلیٰ عدالت نے حکم دیا کہ انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

نواز شریف کے غیر ملکی ڈاکٹر لارنس کے خط کی مصدقہ کاپی عدالت میں پیش کی گئی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا یہ خط عدنان نامی شخص کے نام لکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر لارنس کا یہ خط عدالت کے نام نہیں لکھا گیا، اس خط کی قانونی حیثیت کیا ہو گی؟ اس کے مصدقہ ہونے کا ثبوت نہیں، یہ خط ایک پرائیویٹ شخص نے دوسرے پرائیویٹ شخص کو لکھا ہے، آپ نے میرٹ کی بنیاد پر دائر پٹیشن واپس لے لی تھی۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا نواز شریف کی صحت کا معاملہ بعد میں سامنے آیا، نواز شریف کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے 5 میڈیکل بورڈ بنے، پانچوں میڈیکل بورڈز نے نواز شریف کو ہسپتال داخل کرانے کی سفارش کی۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا پروفیسر زبیر نے نواز شریف کی اینجیو گرافی کو ماہر امراض گردہ کی کلیئرنس سے مشروط کیا۔ نواز شریف کی ذیابیطس اور ہائپرٹینشن کی مانیٹرنگ کی بھی ضرورت ہے، نواز شریف کے گردوں کی بیماری تیسرے مرحلے پر ہے، اگلے مرحلے پر ڈائیلاسز اور اس سے اگلے مرحلے پر گردے فیل ہوسکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر لارنس کے خط کے علاوہ ہمارے سامنے کچھ نہیں، کیا ہم ایک خط پر انحصار کر لیں؟ جس پر وکیل نے کہا یہ ڈاکٹر نواز شریف کا علاج کرتا رہا ہے، اس کا خط مصدقہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا، کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کی طبعیت خراب ہو گئی ہے، نواز شریف کی بیماری کے ثبوت میں ایک خط پیش کیا جا رہا ہے، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ مریض 15 سال سے بیمار ہے، آپ کی بنیاد ہے کہ نواز شریف کی صحت اب خراب ہو رہی ہے، نواز شریف نے بیماری کے دوران بہت مصروف زندگی گزاری۔

نیب کے وکیل جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا نواز شریف کی اپیل حتمی دلائل کے لیے مقرر ہو چکی ہے، نیب نواز شریف کی سزا میں اضافے کی درخواست دے چکا اور نواز شریف کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ نواز شریف کی زندگی کو خطرہ نہیں، نواز شریف کی انجیو گرافی پاکستان میں ہوسکتی ہے۔ ہسپتالوں میں جدید ترین سہولتیں موجود ہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا نیب کے سارے ملزم بیمار کیوں ہو جاتے ہیں؟ نیب اتنے ارب روپے ریکور کرتا ہے ایک اچھا ہسپتال ہی بنا لے۔

چیف جسٹس نے اسد منیر کی مبینہ خودکشی سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہا لگتا ہے نیب ملزمان کو ذہنی دباؤ زیادہ دیتا ہے، نیب رویہ کی وجہ سے لوگ خودکشی کرنے لگ گئے ہیں، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here